قرآن • سورۃ ۱

سورۃ فاتحہ

عربی متن اور منسوب اردو ترجمہ پڑھیں، پھر مختصر تعارف اور غور و فکر کے سوالات کو سادہ تعلیمی معاونت کے طور پر استعمال کریں۔

سورۃ ۱۷ آیاتفاتحہ • آغاز
۱

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

۲

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

۳

ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا۔

۴

مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ

بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔

۵

إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

۶

ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ

ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دکھا۔

۷

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وہ لوگ جو جہالت کے سبب راہ حق سے برگشتہ ہوگئے)۔

ترجمہ کا ماخذ

اردو ترجمہ — محمد جوناگڑھی

مترجم: محمد ابراہیم جوناگڑھی · QuranEnc ورژن 1.1.3 · ماخذ: QuranEnc.com

QuranEnc پر اس ترجمے میں [1]، [2] جیسے نشانات وہاں موجود حواشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ حواشی مترجم کا ترجمہ نہیں بلکہ الگ تفسیری حواشی ہیں: QuranEnc ان کے مصنف کا نام نہیں دیتا، اور IHSAYA کے موازنے میں ان کا متن حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر احسن البیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ IHSAYA یہ حواشی اور ان کے نشانات اس صفحے پر شامل نہیں کرتا؛ وہ اصل ماخذ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ترجمے کے الفاظ نہیں بدلے گئے؛ صرف دو حروف کی کمپیوٹر انکوڈنگ معیاری اردو حروف (لا، ہ) میں درست کی گئی ہے۔

اصل ترجمہ اور حواشی دیکھیں

IHSAYA کے تعلیمی خلاصے اور غور و فکر کے سوالات قرآنی ترجمہ، تفسیر یا فتویٰ نہیں ہیں۔

سورۃ فاتحہ کو سمجھنا

سورۃ فاتحہ (”آغاز“) قرآن کی ترتیب میں پہلی سورت ہے، اور مسلمان نماز کی ہر رکعت میں اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ سات آیات میں یہ اللہ کی حمد سے شروع ہو کر عبادت اور اسی پر بھروسے کے اقرار تک، اور پھر ہدایت کی دعا تک پہنچتی ہے۔ اکثر علما اسے مکی سورت قرار دیتے ہیں، یعنی مکہ میں نازل ہوئی؛ ابن کثیر یہ بات ابن عباس، قتادہ اور ابو العالیہ سے نقل کرتے ہیں۔

صحیح احادیث میں سورۃ فاتحہ

ذیل میں احادیث کا اردو مفہوم دیا گیا ہے، اور جانچ کے لیے کتاب اور حدیث نمبر درج ہیں۔

  • نماز میں لازمی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی۔“ (صحیح بخاری 756؛ صحیح مسلم 394؛ راوی: عبادہ بن صامت۔) امام کے پیچھے قراءت جیسی بعض عملی تفصیلات میں فقہی مذاہب کا اختلاف ہے؛ IHSAYA ان پر کوئی فتویٰ نہیں دیتا۔
  • قرآن کی سب سے عظیم سورت۔ نبی ﷺ نے ابو سعید بن المعلیٰ سے فرمایا کہ وہ انہیں ”قرآن کی سب سے عظیم سورت“ سکھائیں گے، پھر فرمایا: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ: یہی السبع المثانی (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات) اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔“ (صحیح بخاری 4474۔)
  • اُمّ القرآن۔ ”اُمّ القرآن ہی السبع المثانی اور قرآنِ عظیم ہے۔“ (صحیح بخاری 4704؛ راوی: ابو ہریرہ۔)

”بار بار دہرائی جانے والی سات“ کے الفاظ قرآن 15:87 سے ہم آہنگ ہیں: ”یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں. کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے.“ (ترجمہ: محمد جوناگڑھی۔) Quran.com کے مطابق اس سورت کے بیس سے زیادہ نام ہیں؛ فاتحۃ الکتاب، اُمّ القرآن اور السبع المثانی وہ نام ہیں جو اوپر براہِ راست احادیث سے نقل کیے گئے ہیں۔

سورت کی ترتیب

ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“ (صحیح مسلم 395؛ راوی: ابو ہریرہ۔) یہی حدیث سورت کے ہر حصے پر اللہ کا جواب بیان کرتی ہے:

  1. حمد (آیات ۲–۴)۔ ”سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“ پر: ”میرے بندے نے میری حمد کی۔“ ”بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا“ پر: ”میرے بندے نے میری ثنا کی۔“ ”بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک“ پر: ”میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔“
  2. عہد (آیت ۵)۔ ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“ پر: ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“
  3. دعا (آیات ۶–۷)۔ ”ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دکھا…“ سے آخر تک: ”یہ میرے بندے کے لیے ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“

سورۃ فاتحہ کی سات آیات ہونے پر اتفاق ہے۔ اس صفحے کا ماخذ، اہلِ مکہ اور اہلِ کوفہ کے شمار کی طرح، بسم اللہ کو پہلی آیت شمار کرتا ہے؛ اہلِ مدینہ کا شمار اسے شمار کیے بغیر بھی سات آیات تک پہنچتا ہے۔ علما میں اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ بسم اللہ خود سورۃ فاتحہ کی آیت ہے یا نہیں۔

پہلے حمد، پھر دعا

پہلا حصہ اللہ کی ربوبیت، رحمت اور بدلے کے دن پر اس کے اختیار کا اعتراف ہے؛ دعا اس کے بعد ہی آتی ہے۔

عبادت اور مدد ساتھ ساتھ

آیت ۵ عبادت اور مدد مانگنے کو ایک جملے میں جمع کرتی ہے، اور عربی میں دونوں حصوں میں ”تجھ ہی“ (إِيَّاكَ) پہلے آتا ہے۔

لوگوں کے ذریعے دکھایا گیا راستہ

آیات ۶–۷ سیدھے راستے کی دعا کرتی ہیں اور اسے صرف اصولوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں کے ذریعے بیان کرتی ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا۔

غور و فکر کے سوالات

  • صحیح مسلم کی حدیث سورۃ فاتحہ کے ہر حصے پر ایک جواب بیان کرتی ہے۔ میری نماز میں کون سا حصہ اکثر جلدی میں ادا ہو جاتا ہے؟
  • آیت ۵ مدد مانگنے کو عبادت کے ساتھ رکھتی ہے۔ کسی موجودہ مشکل میں مدد کے لیے میرا پہلا رجوع کس کی طرف ہوتا ہے؟
  • آیت ۷ سیدھے راستے کو ان لوگوں کے ذریعے بیان کرتی ہے جو اس پر چلے۔ ایمان اور کردار میں میرے لیے کس کی مثال سیکھنے کا ذریعہ ہے؟

ماخذ اور جائزہ

ادارتی جائزہ: 17 اکتوبر 2026۔ مواد یا ماخذ میں ممکنہ غلطی کی اطلاع کے لیے IHSAYA مدد استعمال کریں۔

تلاوت جاری رکھیں

روزانہ قرآن پڑھنے میں تسلسل رکھیں

IHSAYA میں قرآن، یاد دہانیاں اور روزانہ رہنمائی ایک پرسکون تجربے میں دستیاب ہیں۔

IHSAYA ایپ دیکھیں